دیکھو وہ نوجوان آ رہا ہے۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ وہ نوجوان اس مجمعے میں تھا۔ اس نے اونٹنی سے اترتے ہی معذرت کی کہ میری زین کا تنگ ٹوٹ گیا تھا جس کے باعث مجھے کچھ دیر رکنا پڑا مجھے خوشی ہے کہ میرے محسن کی جان بچ گئی۔ اب میں کر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں”۔ نوجوان شرافت اور ایفائے عہد نے سارے مجمعے پر سناٹا طاری کر دیا۔ لوگ دل سے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگے۔ اتنے میں بوڑھے کے دونوں بیٹے مجمعے سے نکل کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے روبرو کھڑے ہوگئے اور عرض کی:” اے امیر المؤمنین! ہم نے اپنے والد کا خون معاف کیا، ہم نہیں چاہتے کہ ایک ایسا سچا مسلمان ہماری وجہ سے موت کے گھاٹ اتارا جائے”۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں مسرت کے آنسو آگئے اور فرمایا: “خدا کی قسم میری بھی یہی خواہش تھی کہ کسی طرح یہ نوجوان بچ جائے ، اس احسان کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں”۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نوجوان کی آزادی کا حکم دے دیا۔
جس صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوان کی ضمانت دی تھی، وہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔